اتوار 21 جون 2026 - 16:49
کربلائے لبنان اور ہماری ذمہ داریاں

حوزہ/ حزب اللہ اسلامی مزاحمتی محاذ کا ایک اہم ستون ہی نہیں بلکہ حقیقتاً ہمارے وجود کا حصہ اور ہمارے دل کا ٹکڑا ہے۔ اسی لیے ہم اس کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں نہ بے پرواہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی کم توجہی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ اسلامی مزاحمتی محاذ کا ایک اہم ستون ہی نہیں بلکہ حقیقتاً ہمارے وجود کا حصہ اور ہمارے دل کا ٹکڑا ہے۔ اسی لیے ہم اس کی تقدیر اور مستقبل کے بارے میں نہ بے پرواہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی کم توجہی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

ایک بات بالکل واضح ہے کہ سخت اور غیر مساوی جنگ کے اس نازک مرحلے میں حزب اللہ لبنان اپنا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس حقیقت کو اس کے سیکریٹری جنرل کے ان الفاظ سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے جب انہوں نے کہا: "اگر ہم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے اور موت کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہو، تب بھی ہم اپنے شرعی و اخلاقی فریضے پر عمل کریں گے اور موت سے نہیں ڈریں گے... ہم نے کربلائی فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔"

لبنان کی اسلامی مزاحمت کے مجاہدین آج پہلے سے کہیں زیادہ اپنے شہید قائد سید حسن نصر اللہ کے اس مشہور قول پر یقین رکھتے ہیں کہ "شہادت طلبی دشمن کے مقابلے میں سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔" وہ اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جب راستہ اور ہدف واضح ہو تو صہیونی دشمن کے اسلحے، فوجی طاقت اور جنگی سازوسامان سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس راستے میں کامیابی یا شہادت، دونوں ہی کامیابی ہیں۔

حزب اللہ کے جانباز اور اس کے وفادار حامی امام حسین علیہ السلام کے اس فرمان پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ "شہادت اور خدا کی راہ میں سرخ موت وہ پل ہے جو انسان کو مشکلات اور مصائب سے نکال کر جنت اور دائمی نعمتوں تک پہنچا دیتا ہے۔"

آج جب مزاحمتی مجاہدین کربلائی جذبے کے ساتھ صہیونی جارحیت کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور محرم الحرام کی مناسبت سے اپنی نئی کارروائی کا نام "عاشورا" رکھا ہے تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان کی حمایت سے غافل نہ ہوں اور جس حد تک ممکن ہو ان کا ساتھ دیں۔

جنوبی لبنان کی جنگ درحقیقت ارادے، ایمان اور استقامت کی جنگ ہے۔ یہ معرکہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ مزاحمت ہی عزت، وقار اور آزادی کا راستہ ہے اور یہ کہ جنگ کرنے کی قیمت، تسلیم ہو جانے یا ہتھیار ڈال دینے کی قیمت سے کہیں کم ہے۔ یہی وہ عظیم درس ہے جو لبنان کے مقاوم عوام اور حزب اللہ نے اپنے شہید قائد آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے سیکھا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس خونریز اور ہمہ گیر جنگ کے مقابلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ حزب اللہ اسلامی محاذِ مزاحمت کا حصہ ہی نہیں بلکہ ہمارے احساسات اور جذبات کا بھی حصہ ہے۔ برسوں سے لبنان کے عوام کے دکھ اور خوشیاں ہمارے دکھ اور خوشیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا ہم ان کے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ہر آزاد ضمیر کے سامنے یہ سوال موجود ہے کہ اگر کسی کے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہو تو کیا وہ خاموش تماشائی بن سکتا ہے؟ اگر لبنان کے جسم پر زخم لگیں تو کیا ہم یہ محسوس نہ کریں کہ یہ زخم ہمارے اپنے جسم پر بھی لگے ہیں؟

حزب اللہ کے مجاہدین اور لبنان کے مقاوم شیعہ عوام نے گزشتہ کئی ماہ سے ثابت کیا ہے کہ حسینی راستہ عزت، استقلال اور کامیابی کا راستہ ہے اور استقامت ہی حتمی فتح کی ضامن ہے۔ تاہم ہماری بھی انسانی، دینی اور انقلابی ذمہ داریاں ہیں۔ ہمیں یہ نہیں ہونے دینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے دشمن کے مقابلے میں تنہا رہ جائیں جو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ وعدہ شکن بھی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنوبی لبنان میں جاری مظالم اور جرائم پر بین الاقوامی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

آج کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دعاؤں، فکری حمایت، بیداری اور حق گوئی کے ذریعے مظلوموں کا ساتھ دیں، کیونکہ کربلا کا پیغام صرف سن لینے کے لیے نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے ہے، اور یہی پیغام آج لبنان کی سرزمین سے پوری امتِ مسلمہ کو دیا جا رہا ہے۔

تحریر: سید محمدمهدی موسوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha